Pages

Thursday, September 1, 2016

شریکِ حیات کے نام

شبِ آوارگی اب ڈھلنے کو ہے
طلوع خورشیدِ صبحِ نو ہونے کو ہے

سرِ راہِ حیات مُنتظر ایک ہمسفر
نجاتِ کربِ تنہایاں ملنے کو ہے

استعارے محبت چشمہ تصور سے
اک پری پیکر میں اُترنے کو ہے

اک طلسم سے محو ہے سب نظارے
شب و روز کے منظر بدلنے کو ہے

آمدِ  بہار ہے کشتِ ویراں میں
ڈالی ڈالی پہ اب گُل کِھلنے کو ہیں

نمودار ہورہی ہے فلک پر قوسِ قزاح
بے رنگ تصویرِ زندگی میں رنگ بھرنے کو ہے

دل میں اُتر آئی ہے بہشت سے ایک اپسرا
یہ ویران جہاں مثلِ خُلد بن سنورنے کو ہے
؎
عبدالحسیب

Sunday, November 3, 2013

ماضی، مستقبل اور حال!!!

ذہن جب بھی ماضی کے سفر پر نکلتا ہے تو اکثر  ایک منظر پر آکر ٹھہر جا تا ہے۔ ایک قدیم عمارت ، ایک تنگ کمرہ جہاں چند  نو عمر طلباء   ایک ادھیڑ عمر استاد کے سوال کے جوابات دینے میں مشغول ہیں۔ استاد کے سوال میں دلچسپی اور طلباء کے جوابات میں سنجیدگی کے عنصر واضح نظر آ تے ہیں۔ میں معلم، میں ڈاکٹر، میں کھلاڑی، میں اداکار۔۔۔۔۔۔۔بننا چاہتا ہوں ، استاد جی۔ اسی تسلسل میں جوابات سنائی دیتے ہیں۔ انہی طلباء میں ایک آشنا خد و خال نظر آتے ہیں ۔ اس شبیہ کا جواب  ذہن میں بازگشت  کرنے لگتا ہے اور اسی وقت سارا منظر ذہن سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ ذہن تیزی سے ماضی سے حال تک کا سفر طے کرتا ہے۔ دورانِ سفر کئی  مانوس، غیر مانوس صورتیں ، دلکش، دلفریب مناظر   کا دیدار ہوتا ہے۔ لیکن ذہن ایک لمحہ بھی کہیں رُکنا گوارا نہیں کرتا۔ ذہن حال میں واپس پہنچ جاتا ہے لیکن ایک آواز بھی اُسکے تعقب میں حال تک پہنچ جاتی ہے ۔ یہ آواز ذہن میں ایک انتشار پیدا کر دیتی ہے۔   ناجانے کتنی  مرتبہ یہی معاملہ پیش آتا ہے۔ ماضی کا سفر، ایک منظر،ایک آواز ،  واپسی اور ایک مستقل انتشار!!!
 'پائلٹ'۔۔۔۔میں پائلٹ بننا چاہتا ہوں جناب!!  دھیمے لہجے کا یہ جملہ  ماضی سے حال تک کے سفر میں وقت کے چاک پر  ناجانے کتنے  الفاظ بدلتا ہے۔ سائنس داں ، خلائی مسافر، سیاست داں، شاعر، ادیب وغیرہ وغیرہ۔   وہ جواب جو ماضی سے حال اپنا مستقبل دیکھنے کے لیے پہنچتا ہے۔ پر حال کا منظر تو کچھ اور ہی ہے۔ یہاں تو  اُن میں سے کوئی بھی موجود نہیں جن کے ہونے کے امکان  سفر تمام موجود رہے! ایک ایسی کیفیت رونما ہوئی ہے جس میں حال کو ماضی سے گلا ہے اور ماضی کو حال سے شکوہ۔  اس تصادم کے عالم میں ذہن کی حالت بھی عجیب سی ہوجاتی ہے۔ ذہن میں یہ خیال رقص  کرنے لگتے ہیں کہ 'میں تو ایک لامحدود کائنات ہوں۔ میری کوئی انتہا نہیں۔ پھر کیوں  یہ منجمد سی کیفیت مجھ پر طاری ہوجاتی ہے؟  کیوں  اس کیفیت سے فرار ممکن نہیں؟ ذہن   کی خلاء میں تب ہی ایک آواز  گونجتی ہے۔ 'مستقبل' ۔۔۔'کہاں ہے تمہارامستقبل؟' یہ ماضی کی آواز تھی۔ واقعی ، کہاں ہے میرا مستقبل؟ میں کیا ہوں؟  نہ میں پائلٹ ، نہ سائنس داں ، نہ شاعر نہ ادیب۔۔وہ سارے کردار جو ماضی نے مستقبل کے لیے محفوظ کر رکھے تھے۔  سب غائب ہیں۔میرا حال تو کچھ اور ہی ہے۔ کیا ماضی کی تمام کوششیں، تمام خواہشات   سب ضائع ہوگئیں؟ ہاں سب کچھ فنا ہوگیا۔ مستقبل  جس کی تمنا کی گئی تھی وہ کہیں نہیں ہے۔ وہ مستقبل جو  اب حال ہے۔، ماضی کے  خیال سے بلکل جدا ہے۔ حال کا حال یہ ہے  کہ یہاں اس کا وجود ہی گُم ہے۔   ایک طرف زندگی کی تمام آسائشیں  جو ماضی   کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھی حال کو میسر ہیں لیکن حال کا اپنا وجود ہی نہیں ہے۔  محفل میں حال تنہائی کو تلاش کرتا ہے اور تنہائی میں محفل کو یاد کرتا ہے۔ حال کے پاس سکون نہیں ہے ۔ وہ سکون جو وجود کے ساتھ کہیں فرار ہے۔ حال خالق کی طرف رجوع ہوا ہے ۔ پر وہاں کا سارا سکون تو  اس کی اشرف مخلوق نے تباہ کر دیا ہے۔ مجبوراً حال   کوچہ الحاد کا رخ کرتا ہے لیکن وہاں  بھی  رزمِ عقل و وجدان  سے اس کی طبیعت اوب جاتی ہے ۔  وجود کا متلاشی حال ایک  انتشار کی کیفیت میں مبتلا  ہوجاتا ہے ۔ بس ایک یہی کیفیت ہے جو نا تمام ہے۔۔۔۔۔ممکن ہے وہ وجود جس کی سب کو تلاش ہے اسی کیفیت میں کہیں روپوش ہو۔  

Sunday, September 29, 2013

مسلمانوں کی مسجد!

درس و تدریس کے پیشہ سے وابسطہ ہونے کے تقریباً دس سال بعد یہ موقع آیا کہ ہمیں ریاستی تعلیمی بورڈ کی جانب سے بحثیت چیف موڈریٹر، بورڈ میں طلب کیا گیا۔ طئے شدہ تاریخ پر ہم بورڈ کے لیے روانہ ہوئے۔ بورڈ کی جانب سے بہترین انتظمات کئے گئے تھے ، سفر سے لے کر بورڈ پہنچنے تک کہیں بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ یہ صدر مقام کا ہمارا پہلا سفر ہے۔ رات کچھ نو بجے کا آس پاس ہم بورڈ گیسٹ ہاؤس پہنچے۔ باوجود اس کے کہ سفر میں تمام سہولیات میسر تھی، صرف طویل مسافت کے سبب تھکان محسوس ہو رہی تھی ۔ طعام کے بعد بورڈ عہدیداران سے ہم نے معذرت طلب کی اور سیدھے خوابِ خرگوش کی نظر ہو گئے۔ صبح صادق بیدار ہوئے ، تمام ضروریات سے فارغ ہوکر ہم بورڈ دفتر کے لیے قبل از وقت ہی روانہ ہوئے۔ جلد روانگی کا ایک سبب یہ بھی تھا کی جمعہ کا دن ہے نئے شہر میں نہ راستوں کا علم ہے نہ کسی علاقہ سے شناسائی ہے، کسی صاحب سے قریبی مسجد کا پتہ دریافت کر لیں گے اور ممکن ہو تو نماز سے قبل راستہ کا جائزہ بھی لے لیں گے۔ یہ منصوبہ ذہن میں لیے ہم دفتر پہنچے۔ ذمہ داران سے اپنی کارکردگی کی فہرست لی اور ایک کیبن جو چند دنوں کے لیے ہمارے لیے مخصوص کیا گیا تھا، کی راہ لی۔ منصوبہ کے مطابق دفتر ہی میں ایک صاحب سے ہم نے قریبی مسجد کا پتہ دریافت کیا۔ ان صاحب نے بتایا کہ باہر چوارہے پر کسی سے بھی دریافت کریں گے تو وہ بتا دے گا۔ ہم چوراہے کی جانب چل نکلے۔ سامنے سے ایک صاحب آتے نظر آئے۔ ہم نے سلام عرض کیا اور حضرت کے جواب دینے سے قبل ہی دریافت کیا،

'چچا، یہاں کہیں قریب میں مسجد ہے؟'

'کونسی مسجد چاہئے آپ کو،میاں؟'

'مسلمانوں کی ہی مسجدکا پتہ بتا دیں تو ممنون ہوں!'

حضرت نا جانے کیوں ہمیں ایک عجیب نگاہ سے سر تا پا دیکھنے لگے اور بغیر کوئی جواب دیے آگے چل نکلے۔ کچھ دیر ہم اُن صاحب کو جاتے ہوئے دیکھتے رہے پھر اپنے شانوں کو جنبش دی اور آگے نکل گئے۔ کچھ دیر دائیں بائیں موڑ لینے کے بعد ایک مسجد نظر آگئی۔ ہم نے راحت کی سانس لی اور واپس دفتر آگئے۔ دس روزہ قیام کے دوران تمام نمازیں اسی مسجد میں ادا ہوئیں۔ وطن واپسی پر جب عیال میں سب کی فرمائشیں تقسیم ہورہی تھیں تب ہماری چھوٹی صاحب زادی نے سوال کیا۔

'ابو، آپ اپنے لیے کیا لائے؟'

اُس معصوم سوال پر ہمیں یاد آیا کہ ہم اپنے لیے بھی تو ایک 'سوال' ہی لائے ہیں۔

'آپ کو کونسی مسجد چاہئے، میاں؟'

ہم اپنے لیے اتنا قیمتی تحفہ لائے تھے کہ آج پندرہ برس بعد بھی وہ ذہن میں صحیح وسالم محفوظ ہے۔

'کونسی مسجد؟'

'مسلمانوں کی مسجد!'

Sunday, August 12, 2012

اختلافِ رائے پہ اتفاق کر لیں


آج تمام مکتبہ فکر کی دینی خدمات کا جایزہ لیا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ دین کی بنیاد رکھنے میں ہر ایک جماعت پیش پیش ہے یا یوں کہیں کہ دین کی بنیاد توحید ، نماز ، روزہ ، زکات و حج کچھ اطمنان بخش حد تک مضبوط کی جا چکی ..مکمّل طور پر نہیں .لیکن دین کی تکمیل کے لئے تو بنیاد پر ستون قائم کرنے ہونگے ، بام و در و دیوار کی تعمیرکرنی ہوگی تب ہی تو ایک مکمل عمارت وجود میں آئے گی . لیکن اس بنیاد پر بام کی تعمیر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم اپنے باہمی اختلاف رائے پر اتفاق نہ کر لیں اور بحثیت قوم ایک ہوجائیں .مولانا طارق جمیل صاحب نے منہاج القرآن پاکستان کے دفتر کا دورہ کر اس بات کی اہمیت کو واضح کیا .آرا کا اختلاف فطری ہے اگر اسی چیز کو تفرقے کی بنیاد بنا لیا جائے تو اس وقت دنیا میں اس سے بڑا احمقانہ فعل اور کوئی نہیں ہوگا۔

مفتی شفیعؒ نے اپنے خطبات پر مشتمل معرکتہ الآراء کتاب"'وحدتِ امّت" میں مولانا انوار شاہ کاشمیریؒ کی زندگی سے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں۔

میں حضرت مولانا انور شاہ کاشمیریؒ کی خدمت میں ایک دن نمازِ فجر کے وقت اندھیرے میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت غمزدہ بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا مزاج کیسا ہے؟ انھوں نے کہا کہ ہاں! ٹھیک ہی ہے میاں،مزاج کیا پوچھتے ہو،عمر ضائع کر دی۔۔
میں نے عرض کیا حضرت! آپ کی ساری عمر علم کی خدمت میں اور دین کی اشاعت میں گزری ہے۔ہزاروں آپ کے شاگرد علماء ہیں جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمتِ دیں میں لگے ہوئے ہیں۔آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام میں لگی؟ تو حضرت نے فرمایا کہ،"میں تمہیں صحیح کہتا ہوں کہ اپنی عمر ضائع کر دی!" میں نے عرض کیا کہ حضرت اصل بات کیا ہے؟
فرمایا،"ہماری عمر کا ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کوششوں کا خلاصہ یہ رہا کہ دوسرے مسلکوں پر حنفی مسلک کی ترجیح قائم کردیں، امام ابو حنیفہؒ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں ، یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروں کا اور عکمی زندگی کا۔۔۔اب غور کرتا ہوں کس چیز میں عمر برباد کر دی۔۔"
پھر فرمایا" ارے میاں! اس بات کا کہ کونسا مسلک صحیح تھا اور کونسا خطا پر اس کا راز کہیں حشر میں بھی نہیں کھلے گا اور نہ دنیا میں اس کا فیصلہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی قبر میں منکر نکیر پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترکِ رفع یدین حق تھا؟ (نماز میں) آمین زور سے کہنا حق تھا یا آہستہ کہنا حق تھا، برزخ میں بھی اسکے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہوگا۔۔۔روزِ محشر اللہ تعالیٰ نہ امام شافعیؒ کو رسوا کرے گا نہ ہی امام ابوحنیفہؒ کو نہ امام مالکؒ کو نہ امام احمد بن حنبلؒ کو اور نہ میدانِ حشر میں کھڑا کر کے یہ معلوم کرے گا کہ امام ابو حنیفہؒ نے صحیح کہا تھا یا امام شافعیؒ نے غلط کہا تھا، ایسا نہیں ہوگا۔تو جس چیز کا نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے نہ برزخ میں نہ محشر میں، اس کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی اور جو "صحیح اسلام" کی دعوت تھی جو سب کے نزدیک مجمع علیہ،اور وہ مسائل جو سب کے نزدیک متفقہ تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیاء کرام لے کر آئے تھے، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا،وہ منکرات جن کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی،آج اس کی دعوت تو نہیں دی جا رہی۔ یہ ضروریاتِ دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہی ہیں اور اپنےو اغیار سبھی دین کے چہرے کومسخ کر رہے ہیں اور وہ منکرات جن کو مٹانے میں ہمیں لگنا چاہئے تھا وہ پھیل رہے ہیں، گمراہی پھیل رہی ہے، الحاد آرہا ہے۔شرک و بدعت پرستی چلی آرہی ہے، حرام ہ حلال کا امتیاز اٹھ رہا ہے لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فرعی وفروعی بحثوں میں۔۔۔! اس لئے غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ عمر ضائع کر دی"۔۔۔

کیا سوچنے کا مقام نہیں کہ وہ دین جو عالمگیریت کا پیغام لے کر آیا تھا جس دیں کا پیمبر اپنے آخری ختبہ میں یہ کہتا ہے کہ "جہالت میرے پیروں تلے روند دی گئی ہے" اس مذہب کے پیروکار آج کس چیز کی تبلیغ کر ہیں ہے۔ مسلک پرستی سے بڑی بدعت آج اس امت میں کیا ہو سکتی ہے؟ کیا یہ غور کرنے کا مقام نہٰیں؟ مولانا حالی نے جو مسرعہ کہا تھا ایک صدی قبل کس قدر صادق آتا ہے آج بھی

جس دین نے غیروں کے تھے دل آکے ملائے 
اس دین میں خود بھائی سے اب بھائی جدا ہے