Pages

Monday, May 16, 2011

کامیاب طلبہ نہ سہی مریضوں میں تو ہماری تعداد زیادہ ہے



١٣ مئی بروز جمعہ کو صبح مقامی اخبار کا جائزہ لے رہا تھا کہ نظر صفحہ اول کی ایک سرخی پر ٹھہر گئی .سرخی کچھ یوں تھی " سول سروسس امتحانات میں ٢٩ /مسلمان کامیاب " پورا مضمون پڑھنے پر معلوم ہوا کہ کل کامیاب امیدوار ٩٢٠ ہیں جن میں سے ٢٩ مسلمان ہیں (مزید تفتیش پر معلوم ہوا صحیح تعداد ٣١ ہے ). یعنی اس سال ملک کے سب سے بڑے اور پر وقار امتحان میں مسلمانوں کی کامیابی کا فیصد صرف ٣.٣ ہے. اگر سرکاری اعداد و شمار کو صحیح سمجھا جائے تو ملک میں ٢٥% مسلمان آباد ہیں۔ کامیاب طلبہ میں تو یہ تناسب نظر نہیں آرہا ہے۔ کیا حکومت ہماری تعداد غلط بتا رہی ہے ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر مسلمان کہاں ہیں؟اسی روز ایک عزیز کی عیادت کے لئے سرکاری دواخانہ جانا ہوا .سرکاری دواخانہ کے ایک وارڈ میں وہ زیر علاج تھے .شام کے وقت ہم وہاں پہنچے،مریض کا حال چال پوچھ کر اطراف نظر دوڑائی۔ اس وارڈ میں کل ١٦ بیڈ تھے جن میں سے ١٠ پر مسلمان قابض تھے .یعنی ٦٢ فیصد مسلمان اور ٣٨ فیصد غیر مسلم تھے .اسی وقت صبح کے اعداد و شمار ذہن میں رقص کرنے لگے .جب دونوں اعداد و شمار کا موازنہ کیا تو دل کو تسّلی ہوئی کہ حکومت جھوٹ نہیں کہہ رہی تھی دل کو دلاسہ دیتے ہوئے ہم نے کہا ,کامیاب طلبہ نہ سہی مریضومیں تو ہماری تعداد زیادہ ہے

2 comments:

  1. بہت اچھا لگا عبدالحسیب بھائی
    ایک کڑوی سچائی کو اتنے خوبصورت انداز میں بیان کر دیا کہ پڑھنے والا مسکراتے ہوئے بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. بس ایک تلخ سچائی کو طنزیہ تحریر میں قید کرنے کی کوشش کی ہے۔ پسندیدگی کے لیے شکریہ

      Delete

موضوع کی اصلاح یا کسی نکتہ پر مزید معلومات کے لیے تبصرہ کریں۔ بد کلامی یا کسی بھی قسم کی بد تمیزی تبصرہ میں قبول نہیں کی جائے گی