Pages

Sunday, August 12, 2012

اختلافِ رائے پہ اتفاق کر لیں


آج تمام مکتبہ فکر کی دینی خدمات کا جایزہ لیا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ دین کی بنیاد رکھنے میں ہر ایک جماعت پیش پیش ہے یا یوں کہیں کہ دین کی بنیاد توحید ، نماز ، روزہ ، زکات و حج کچھ اطمنان بخش حد تک مضبوط کی جا چکی ..مکمّل طور پر نہیں .لیکن دین کی تکمیل کے لئے تو بنیاد پر ستون قائم کرنے ہونگے ، بام و در و دیوار کی تعمیرکرنی ہوگی تب ہی تو ایک مکمل عمارت وجود میں آئے گی . لیکن اس بنیاد پر بام کی تعمیر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم اپنے باہمی اختلاف رائے پر اتفاق نہ کر لیں اور بحثیت قوم ایک ہوجائیں .مولانا طارق جمیل صاحب نے منہاج القرآن پاکستان کے دفتر کا دورہ کر اس بات کی اہمیت کو واضح کیا .آرا کا اختلاف فطری ہے اگر اسی چیز کو تفرقے کی بنیاد بنا لیا جائے تو اس وقت دنیا میں اس سے بڑا احمقانہ فعل اور کوئی نہیں ہوگا۔

مفتی شفیعؒ نے اپنے خطبات پر مشتمل معرکتہ الآراء کتاب"'وحدتِ امّت" میں مولانا انوار شاہ کاشمیریؒ کی زندگی سے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں۔

میں حضرت مولانا انور شاہ کاشمیریؒ کی خدمت میں ایک دن نمازِ فجر کے وقت اندھیرے میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت غمزدہ بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا مزاج کیسا ہے؟ انھوں نے کہا کہ ہاں! ٹھیک ہی ہے میاں،مزاج کیا پوچھتے ہو،عمر ضائع کر دی۔۔
میں نے عرض کیا حضرت! آپ کی ساری عمر علم کی خدمت میں اور دین کی اشاعت میں گزری ہے۔ہزاروں آپ کے شاگرد علماء ہیں جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمتِ دیں میں لگے ہوئے ہیں۔آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام میں لگی؟ تو حضرت نے فرمایا کہ،"میں تمہیں صحیح کہتا ہوں کہ اپنی عمر ضائع کر دی!" میں نے عرض کیا کہ حضرت اصل بات کیا ہے؟
فرمایا،"ہماری عمر کا ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کوششوں کا خلاصہ یہ رہا کہ دوسرے مسلکوں پر حنفی مسلک کی ترجیح قائم کردیں، امام ابو حنیفہؒ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں ، یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروں کا اور عکمی زندگی کا۔۔۔اب غور کرتا ہوں کس چیز میں عمر برباد کر دی۔۔"
پھر فرمایا" ارے میاں! اس بات کا کہ کونسا مسلک صحیح تھا اور کونسا خطا پر اس کا راز کہیں حشر میں بھی نہیں کھلے گا اور نہ دنیا میں اس کا فیصلہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی قبر میں منکر نکیر پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترکِ رفع یدین حق تھا؟ (نماز میں) آمین زور سے کہنا حق تھا یا آہستہ کہنا حق تھا، برزخ میں بھی اسکے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہوگا۔۔۔روزِ محشر اللہ تعالیٰ نہ امام شافعیؒ کو رسوا کرے گا نہ ہی امام ابوحنیفہؒ کو نہ امام مالکؒ کو نہ امام احمد بن حنبلؒ کو اور نہ میدانِ حشر میں کھڑا کر کے یہ معلوم کرے گا کہ امام ابو حنیفہؒ نے صحیح کہا تھا یا امام شافعیؒ نے غلط کہا تھا، ایسا نہیں ہوگا۔تو جس چیز کا نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے نہ برزخ میں نہ محشر میں، اس کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی اور جو "صحیح اسلام" کی دعوت تھی جو سب کے نزدیک مجمع علیہ،اور وہ مسائل جو سب کے نزدیک متفقہ تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیاء کرام لے کر آئے تھے، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا،وہ منکرات جن کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی،آج اس کی دعوت تو نہیں دی جا رہی۔ یہ ضروریاتِ دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہی ہیں اور اپنےو اغیار سبھی دین کے چہرے کومسخ کر رہے ہیں اور وہ منکرات جن کو مٹانے میں ہمیں لگنا چاہئے تھا وہ پھیل رہے ہیں، گمراہی پھیل رہی ہے، الحاد آرہا ہے۔شرک و بدعت پرستی چلی آرہی ہے، حرام ہ حلال کا امتیاز اٹھ رہا ہے لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فرعی وفروعی بحثوں میں۔۔۔! اس لئے غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ عمر ضائع کر دی"۔۔۔

کیا سوچنے کا مقام نہیں کہ وہ دین جو عالمگیریت کا پیغام لے کر آیا تھا جس دیں کا پیمبر اپنے آخری ختبہ میں یہ کہتا ہے کہ "جہالت میرے پیروں تلے روند دی گئی ہے" اس مذہب کے پیروکار آج کس چیز کی تبلیغ کر ہیں ہے۔ مسلک پرستی سے بڑی بدعت آج اس امت میں کیا ہو سکتی ہے؟ کیا یہ غور کرنے کا مقام نہٰیں؟ مولانا حالی نے جو مسرعہ کہا تھا ایک صدی قبل کس قدر صادق آتا ہے آج بھی

جس دین نے غیروں کے تھے دل آکے ملائے 
اس دین میں خود بھائی سے اب بھائی جدا ہے