Pages

Sunday, November 3, 2013

ماضی، مستقبل اور حال!!!

ذہن جب بھی ماضی کے سفر پر نکلتا ہے تو اکثر  ایک منظر پر آکر ٹھہر جا تا ہے۔ ایک قدیم عمارت ، ایک تنگ کمرہ جہاں چند  نو عمر طلباء   ایک ادھیڑ عمر استاد کے سوال کے جوابات دینے میں مشغول ہیں۔ استاد کے سوال میں دلچسپی اور طلباء کے جوابات میں سنجیدگی کے عنصر واضح نظر آ تے ہیں۔ میں معلم، میں ڈاکٹر، میں کھلاڑی، میں اداکار۔۔۔۔۔۔۔بننا چاہتا ہوں ، استاد جی۔ اسی تسلسل میں جوابات سنائی دیتے ہیں۔ انہی طلباء میں ایک آشنا خد و خال نظر آتے ہیں ۔ اس شبیہ کا جواب  ذہن میں بازگشت  کرنے لگتا ہے اور اسی وقت سارا منظر ذہن سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ ذہن تیزی سے ماضی سے حال تک کا سفر طے کرتا ہے۔ دورانِ سفر کئی  مانوس، غیر مانوس صورتیں ، دلکش، دلفریب مناظر   کا دیدار ہوتا ہے۔ لیکن ذہن ایک لمحہ بھی کہیں رُکنا گوارا نہیں کرتا۔ ذہن حال میں واپس پہنچ جاتا ہے لیکن ایک آواز بھی اُسکے تعقب میں حال تک پہنچ جاتی ہے ۔ یہ آواز ذہن میں ایک انتشار پیدا کر دیتی ہے۔   ناجانے کتنی  مرتبہ یہی معاملہ پیش آتا ہے۔ ماضی کا سفر، ایک منظر،ایک آواز ،  واپسی اور ایک مستقل انتشار!!!
 'پائلٹ'۔۔۔۔میں پائلٹ بننا چاہتا ہوں جناب!!  دھیمے لہجے کا یہ جملہ  ماضی سے حال تک کے سفر میں وقت کے چاک پر  ناجانے کتنے  الفاظ بدلتا ہے۔ سائنس داں ، خلائی مسافر، سیاست داں، شاعر، ادیب وغیرہ وغیرہ۔   وہ جواب جو ماضی سے حال اپنا مستقبل دیکھنے کے لیے پہنچتا ہے۔ پر حال کا منظر تو کچھ اور ہی ہے۔ یہاں تو  اُن میں سے کوئی بھی موجود نہیں جن کے ہونے کے امکان  سفر تمام موجود رہے! ایک ایسی کیفیت رونما ہوئی ہے جس میں حال کو ماضی سے گلا ہے اور ماضی کو حال سے شکوہ۔  اس تصادم کے عالم میں ذہن کی حالت بھی عجیب سی ہوجاتی ہے۔ ذہن میں یہ خیال رقص  کرنے لگتے ہیں کہ 'میں تو ایک لامحدود کائنات ہوں۔ میری کوئی انتہا نہیں۔ پھر کیوں  یہ منجمد سی کیفیت مجھ پر طاری ہوجاتی ہے؟  کیوں  اس کیفیت سے فرار ممکن نہیں؟ ذہن   کی خلاء میں تب ہی ایک آواز  گونجتی ہے۔ 'مستقبل' ۔۔۔'کہاں ہے تمہارامستقبل؟' یہ ماضی کی آواز تھی۔ واقعی ، کہاں ہے میرا مستقبل؟ میں کیا ہوں؟  نہ میں پائلٹ ، نہ سائنس داں ، نہ شاعر نہ ادیب۔۔وہ سارے کردار جو ماضی نے مستقبل کے لیے محفوظ کر رکھے تھے۔  سب غائب ہیں۔میرا حال تو کچھ اور ہی ہے۔ کیا ماضی کی تمام کوششیں، تمام خواہشات   سب ضائع ہوگئیں؟ ہاں سب کچھ فنا ہوگیا۔ مستقبل  جس کی تمنا کی گئی تھی وہ کہیں نہیں ہے۔ وہ مستقبل جو  اب حال ہے۔، ماضی کے  خیال سے بلکل جدا ہے۔ حال کا حال یہ ہے  کہ یہاں اس کا وجود ہی گُم ہے۔   ایک طرف زندگی کی تمام آسائشیں  جو ماضی   کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھی حال کو میسر ہیں لیکن حال کا اپنا وجود ہی نہیں ہے۔  محفل میں حال تنہائی کو تلاش کرتا ہے اور تنہائی میں محفل کو یاد کرتا ہے۔ حال کے پاس سکون نہیں ہے ۔ وہ سکون جو وجود کے ساتھ کہیں فرار ہے۔ حال خالق کی طرف رجوع ہوا ہے ۔ پر وہاں کا سارا سکون تو  اس کی اشرف مخلوق نے تباہ کر دیا ہے۔ مجبوراً حال   کوچہ الحاد کا رخ کرتا ہے لیکن وہاں  بھی  رزمِ عقل و وجدان  سے اس کی طبیعت اوب جاتی ہے ۔  وجود کا متلاشی حال ایک  انتشار کی کیفیت میں مبتلا  ہوجاتا ہے ۔ بس ایک یہی کیفیت ہے جو نا تمام ہے۔۔۔۔۔ممکن ہے وہ وجود جس کی سب کو تلاش ہے اسی کیفیت میں کہیں روپوش ہو۔  

Sunday, September 29, 2013

مسلمانوں کی مسجد!

درس و تدریس کے پیشہ سے وابسطہ ہونے کے تقریباً دس سال بعد یہ موقع آیا کہ ہمیں ریاستی تعلیمی بورڈ کی جانب سے بحثیت چیف موڈریٹر، بورڈ میں طلب کیا گیا۔ طئے شدہ تاریخ پر ہم بورڈ کے لیے روانہ ہوئے۔ بورڈ کی جانب سے بہترین انتظمات کئے گئے تھے ، سفر سے لے کر بورڈ پہنچنے تک کہیں بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ یہ صدر مقام کا ہمارا پہلا سفر ہے۔ رات کچھ نو بجے کا آس پاس ہم بورڈ گیسٹ ہاؤس پہنچے۔ باوجود اس کے کہ سفر میں تمام سہولیات میسر تھی، صرف طویل مسافت کے سبب تھکان محسوس ہو رہی تھی ۔ طعام کے بعد بورڈ عہدیداران سے ہم نے معذرت طلب کی اور سیدھے خوابِ خرگوش کی نظر ہو گئے۔ صبح صادق بیدار ہوئے ، تمام ضروریات سے فارغ ہوکر ہم بورڈ دفتر کے لیے قبل از وقت ہی روانہ ہوئے۔ جلد روانگی کا ایک سبب یہ بھی تھا کی جمعہ کا دن ہے نئے شہر میں نہ راستوں کا علم ہے نہ کسی علاقہ سے شناسائی ہے، کسی صاحب سے قریبی مسجد کا پتہ دریافت کر لیں گے اور ممکن ہو تو نماز سے قبل راستہ کا جائزہ بھی لے لیں گے۔ یہ منصوبہ ذہن میں لیے ہم دفتر پہنچے۔ ذمہ داران سے اپنی کارکردگی کی فہرست لی اور ایک کیبن جو چند دنوں کے لیے ہمارے لیے مخصوص کیا گیا تھا، کی راہ لی۔ منصوبہ کے مطابق دفتر ہی میں ایک صاحب سے ہم نے قریبی مسجد کا پتہ دریافت کیا۔ ان صاحب نے بتایا کہ باہر چوارہے پر کسی سے بھی دریافت کریں گے تو وہ بتا دے گا۔ ہم چوراہے کی جانب چل نکلے۔ سامنے سے ایک صاحب آتے نظر آئے۔ ہم نے سلام عرض کیا اور حضرت کے جواب دینے سے قبل ہی دریافت کیا،

'چچا، یہاں کہیں قریب میں مسجد ہے؟'

'کونسی مسجد چاہئے آپ کو،میاں؟'

'مسلمانوں کی ہی مسجدکا پتہ بتا دیں تو ممنون ہوں!'

حضرت نا جانے کیوں ہمیں ایک عجیب نگاہ سے سر تا پا دیکھنے لگے اور بغیر کوئی جواب دیے آگے چل نکلے۔ کچھ دیر ہم اُن صاحب کو جاتے ہوئے دیکھتے رہے پھر اپنے شانوں کو جنبش دی اور آگے نکل گئے۔ کچھ دیر دائیں بائیں موڑ لینے کے بعد ایک مسجد نظر آگئی۔ ہم نے راحت کی سانس لی اور واپس دفتر آگئے۔ دس روزہ قیام کے دوران تمام نمازیں اسی مسجد میں ادا ہوئیں۔ وطن واپسی پر جب عیال میں سب کی فرمائشیں تقسیم ہورہی تھیں تب ہماری چھوٹی صاحب زادی نے سوال کیا۔

'ابو، آپ اپنے لیے کیا لائے؟'

اُس معصوم سوال پر ہمیں یاد آیا کہ ہم اپنے لیے بھی تو ایک 'سوال' ہی لائے ہیں۔

'آپ کو کونسی مسجد چاہئے، میاں؟'

ہم اپنے لیے اتنا قیمتی تحفہ لائے تھے کہ آج پندرہ برس بعد بھی وہ ذہن میں صحیح وسالم محفوظ ہے۔

'کونسی مسجد؟'

'مسلمانوں کی مسجد!'