Pages

Thursday, September 1, 2016

شریکِ حیات کے نام

شبِ آوارگی اب ڈھلنے کو ہے
طلوع خورشیدِ صبحِ نو ہونے کو ہے

سرِ راہِ حیات مُنتظر ایک ہمسفر
نجاتِ کربِ تنہایاں ملنے کو ہے

استعارے محبت چشمہ تصور سے
اک پری پیکر میں اُترنے کو ہے

اک طلسم سے محو ہے سب نظارے
شب و روز کے منظر بدلنے کو ہے

آمدِ  بہار ہے کشتِ ویراں میں
ڈالی ڈالی پہ اب گُل کِھلنے کو ہیں

نمودار ہورہی ہے فلک پر قوسِ قزاح
بے رنگ تصویرِ زندگی میں رنگ بھرنے کو ہے

دل میں اُتر آئی ہے بہشت سے ایک اپسرا
یہ ویران جہاں مثلِ خُلد بن سنورنے کو ہے
؎
عبدالحسیب